قومی سطح پر کراچی کا مقدمہ۔ کراچی کے مسائل کا حل

0
41

قومی سطح پر کراچی کا مقدمہ۔ کراچی کے مسائل کا حل۔
تحریر : ارسلان تاج گھمن

گزشتہ چندمہینوں سے کراچی سے تعلق رکھنے والی الطاف حسین کی باقیات اتحاد، انضمام، میثاق اور استعفی بعد از استعفی واپسی کا ڈرامہ اور پھر اس کے بعد سینیٹ کی چند نشستوں پر ذاتی مفادات کی خاطر تقسیم در تقسیم کا سلسلہ ایک پٹی ہوئی فلم کی مانند ہو چکا ہے جس کو عوام سراسر مسترد کر چکے اس فلاپ ڈرامے میں کراچی کے مسائل جوں کے توں ہیں اور قیادت کے دعویدار شہر کو کچرے اور بدنظمی کے حوالے کر کے خود میڈیا کے کیمروں کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ میئر صاحب نے جتنی مستعدی سے میڈیا کے مائیک پرے کیے تھے کاش کہ وہ اتنی تیزی سے کچرے کے پہاڑ ہٹاتے تو شہر کی حالت ذرا کم ابتر ہوتی۔

شہرکراچی چھوٹے سے لیکر بڑے ہر مسئلے کی آماجگاہ بن گیا۔ کراچی کے مسائل اتنے گھمبیر ہوچکے ہیں کہ اب ان کا حل مرکز کی مدد کے بغیر ناممکن ہے۔ کراچی کے مسائل کے حل اور شہر کے ترقی کیلئے لازم ہے کہ قومی سطح پر کراچی کا مقدمہ اٹھایا جائے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ کراچی اب قومی دھارے کی سیاست میں شامل ہو اور ایک ایسی جماعت کے پیچھے کھڑا ہو جو قومی سطح پر کراچی کے مسائل کو حل کرنے کی جانب لے جائے۔ ماضی میں کچھ سیاسی جماعتوں نے کراچی کو نظر انداز کیا یا پھر کچھ جماعتوں نے نفرت کی بنیاد پر کراچی کے شہریوں کو قومی دھارے سے دور رکھا۔ کراچی شہر کہنے کو تو منی پاکستان کہلاتا ہے لیکن اس شہر کو کسی قومی جماعت نے اپنے اندر نہیں سمویا جس کی وجہ سے ایک جماعت نے اس کا فائدہ اٹھایا اور سیاست کے نام پر دہشت گردی اور بھتہ خوری ک بازار سرگرم رکھا۔

اس سیاست کہ نتیجے میں کراچی ترقی کی دور میں آگے جانے کے بجائے پیچھے رہ گیا۔ دنیا کے دیگر شہر جیسے کہ دبئی، سنگاپور، کوالالمپور و دیگر آج بہترین انفراسٹرکچر اور جدید نظام سے آراستہ ہیں اور ترقی کی دوڑ میں کہیں آگے نکل چکے ہیں جبکہ کراچی کا آج بھی سب سے بڑا مسئلہ گلی محلوں میں لگے کچرے کے ڈھیر اور انکے سبب جنم لیتے وبائی امراض ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ وہ جماعت جو تیس سال سے مہاجرقوم کے نام پر سیاست کرتی رہی وہ اس کی سب سے بڑی ذمہ دار ہے تو یہ غلط نہ ہوگا کیوں کہ ان تیس سالوں میں ان کے پاس مرکزی و صوبائی وزارتیں بھی رہیں، گورنرشپ بھی رہی، ناظمین بھی رہے اور واٹر بورڈ اور کے ڈی اے جیسے اداروں میں کثیر تعداد میں ملازمین بھی رہے مگر جب بھی ان سے ان کی ناکامی پر سوال پوچھا گیا تو جواب یہ ملتا کہ ہمارے پاس اختیار نہیں۔ خود وزارتوں اور مراعات کے مزے لوٹنے والے قوم کو صرف محرومیوں کی داستانیں سناتے۔ اگر اختیار آپکے پاس نہ تھا تو کس کے پاس تھا؟ سیکڑوں کی تعداد میں شادی ہال اور کھمبیوں کی تیزی سے بڑھتے اپارٹمنٹس کے منصوبے، شاید ہی کوئی کھیل کا میدان بچا ہو جو چائنہ کٹنگ سے محفوظ رہا ہو۔ لسانی نفرت اور بھتہ خوری ہزاروں جانیں نگل گئی۔ بلدیہ فیکٹری کا سانحہ اس ظلم و بربریت کی ایک مثال ہے جو اس شہر کے ساتھ جاری رہا۔ شہر کے بڑے صنعتکار سے لیکر ایک چھوٹا دکاندار تک سب ہی بھتہ خوری کے باعث اپنا سر پیٹتے رہے۔

تیس سال تک اختیار نہ ملنے کے نام پر اپنی ناکامی اور بد نیتی چھپانے والوں نے یہ تک تسلیم نہ کیا کہ کراچی کے مسائل نچلی سطح پر حل نہیں کیے جا سکتے کیونکہ کراچی ڈھائی کروڑ کی آبادی کا شہر ہے جس کے مسائل مرکز کی سطح کے ہیں۔ سنگاپور جیسے پانچ ملک کراچی میں سما سکتے ہیں۔سنگاپور آج ایشیا کا ترقی یافتہ ملک ہے جس کی سالانہ برآمدات کم و بیش تین سو بلین ڈالر ہے جبکہ پاکستان کی کل برآمدات صرف اکیس بلین ڈالر ہیں۔ ۲۰۱۵ء میں سنگاپور میں بے روزگاری کی شرح صرف ۲ فیصد تھی، سنگاپور مجموعی قومی پیداوار کی دوڑ میں تیسرے نمبر پر ہے، عالمی ہیومن ڈولپمنٹ انڈکس کے مطا بق پانچوے نمبر پر جبکہ پاکستان ۱۳۰ میں سے ۱۲۵ نمبر پر۔یہ لمحہء فکریہ ہے کہ جو شہر کراچی کے ایک چوتھائی آبادی کے برابر ہے وہ شہر، پاکستان سے دس گناہ زیادہ برآمدات کر رہا ہے۔ ایسا کیا ہوا کہ ترقی کا یہ پہیہ رک گیا؟ کیوں آج کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ کچرا اور گندگی ہے جبکہ دنیا کے دیگر شہر ترقی در ترقی کی راہ پر گامزن ہیں۔

کراچی کے عوام کو سمجھنا ہوگا کہ کراچی اب صرف ایک شہر نہیں ہے بلکہ پاکستان کی شہہ رگ بھی ہے اور اس کے لاتعداد بنیادی مسائل کو حل کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی مدد ضروری ہے جو کہ ایک قومی جماعت کی قیادت کی صورت میں ہی میسر ہو سکتی ہے عمران خان نے گلشن اقبال میں ہونے والے جلسے میں کراچی کیلئے اپنا دس نکاتی ایجنڈہ پیش کیا اس سے پہلے کسی بھی قومی جماعت نے کراچی کیلئے علیحدہ منشور پیش نہیں کیا ۔ عمران خان نے اپنے دس نکاتی ایجنڈے میں کراچی میں پانی کے مسئلے کو سرفہرست رکھا جو کہ کراچی کے عوام کو لاحل دیرنہ مسئلہ ہے ۔عمران خان نے آنے والے انتخابات میں کراچی سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ہے جہ کہ خوش آئند ہے پی ٹی آئی کا یہ دعواہ کہ پاکستان کا اگلا وزیر اعظم کراچی کے نشست سے ہوگا ایسا دعواہ ہے جس سے پاکستان کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو سکتا ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان نے اب کمر کس لی ہے اور کراچی کا مقدمہ خود لڑنے کی تیاری بھی کر لی ہے۔

آنے والے انتخابات میں کراچی کی تقدیر کا فیصلہ شہر کراچی کے نوجوانوں کو کرنا ہوگا کراچی کو قومی دھارے میں شامل کروا کر اس کے مسائل کو مستقل بنیادوں ہر حل کیا جا سکے۔ اب کی بار کراچی کے پاس غلطی کی گنجائش نہیں ہے۔

ختم شد

رائے دیجئے

Please enter your comment!
Please enter your name here