18

ارباب غلام رحیم نے جو سندھ کے ساتھ کیا

تحریر : قاضی آصف

تھر والو،،،، ارباب علی مراد کسی کو یاد ہے؟؟اگر نہیں تو کامریڈ جام ساقی تو یاد ہوگا؟
جام صادق کے بعد سندھ پر ایک اور جو قہر نازل ہوا تھا وہ، ارباب غلام رحیم کی حکومت تھی۔ دونوں کے وزیراعلیٰ بننے کے حالات کی مماثلت ہے۔ اور دونوں نے جو کام کیئے وہ بھی تقریبا ایک جیسے اور جو دونوں نے زبان استعمال کی وہ بھی کچھ فرق سے ایک جیسی ہی تھی، اس میں ارباب غلام رحیم کی مارکس کچھ زیادہ ہو جائیں گی۔
ان دنوں میں ڈان گروپ کے ایوننگر، دی اسٹار میں کام کرتا تھا، تھر میں ارباب غلام رحیم نے اپنے مخالفین کا جو حشر کیا تھا وہ اب بھی اخباروں کے سینے میں محفوظ ہے۔
ارباب علی مراد تھرکا ایک عمر رسیدہ وکیل تھا، وہ ارباب غلام رحیم کا شدید مخالف تھا، اس کے خلاف تھر میں متحرک تھا۔ اس کو ایک دن مٹھی کورٹ کے باہر سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ارباب غلام رحیم کے خلاف تقریر کر رہا تھا۔ اس کو تشدد کا نشانہ بنایا، کوئی اور مقدمہ نہیں ملا تو، بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر بجلے کا کنڈہ لگانے، بجلی چوری کا مقدمہ داخل کردیا گیا۔ پتہ نہیں اب ارباب علی مراد کہاں ہے۔ اس کے ساتھ گرفتاری کے بعد جو عقوبت ہوئی وہ اپنی جگہ لیکن جب کچھ عرصے کے بعد پولیس نے اس کو عدالت میں پیش کیا تو اس عمر رسیدہ وکیل نے عدالت سے جو گذارش کی تھی وہ حیران کن تھی
انہوں نے کہا تھا کہ جناب اعلیٰ اول تو میری عمر ایسی نہیں کہ میں کسی بجلی کے پول پر چڑھ سکوں، اور بجلی چوری کا کنڈہ لگائوں اور اگر ایسا ہو بھی تو اس کیلئے انتہائی ضروری ہے کہ میرے گائوں میں بجلی ہو، اس کے پول لگے ہوئے ہوں۔ جناب اعلیٰ میرے گائوں میں نہ بجلی ہے نہ بجلی کے پول، تو میں نے کہاں چڑھ کر بجلی کا کنڈہ لگایا اور بجلی چوری کی؟؟؟ اور مجھ پر مقدمہ بنا کر گرفتار کرلیا گیا؟؟ عدالت میں حیرت کی لہر دوڑ گئی۔
پولیس جب جج کو مطمئن نہ کر پائی تو جج نے ارباب علی مراد کو ضمانت دے دی۔
یہ فقط ایک مثال ہے، تھر میں ارباب غلام رحیم کے وزارت اعلیٰ کےد ور میں ہزاروں “رحمتوں” کی مثالیں ہیں۔
میں ان دونوں اسٹار میں خبر دی تھی، اس کے ایف آئی آرز کی کاپیز بھی میرے پاس تھیں۔ ارباب غلام رحیم نے اپنے مخالفین کے خلاف چار سو جھوٹی ایف آئی آر درج کروائیں تھیں۔ اور ان ایف آئی آر کی بنیاد پر سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کو تھانوں میں الٹا لٹکا کر، ان کے پیچھے سے لال مرچوں کا پانی تک ڈلوایا گیا تھا۔
اسی حوالے سے ایک تقریب میں، میں نے جب ڈاکٹر ارباب غلام رحیم سے سوال کیا تھا تو وہ مجھ پر شدید غصہ ہو گئےتھے، ان کے بس میں نہیں تھا، کیونکہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا، ورنہ وہ مجھ پر دے مارتا۔ انہوں نے جو “لاجواب” زبان استعمال کی ہوگی، اس کا اندازہ ارباب غلام رحیم کو جاننے والے اچھی طرح لگا سکتے ہیں۔
چلو اگر ارباب علی مراد یاد نہیں تو کامریڈ جام ساقی تو یاد ہوگا۔ ان کے ساتھ جعلی مقدمے بنا کرجو حشر کیا گیا وہ بھی تاریخ کا حصہ ہے۔ جام ساقی کا مقدمہ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ میں تھا، ایک دن کامریڈ جام ساقی کے حق میں فیصلہ آ یا۔ وہ میں نے خبر اسٹار میں چھاپ دی۔
شام کو سی ایم ہاوس سے کال آئی، دسری طرف سے ایک صحافی ہی بول رہا تھا، جو کسی زمانے میں میرا دوست ہوا کرتا تھا۔ وہ شدید غصہ تھے اور تقریبا گالیاں نکال رہے تھے۔ کہ تم نے خبر چھاپی تو وزیراعلیٰ ہاوس کا موقف کیوں نہیں لیا؟ میں نے کہا بھائی وہ عدالت کے فیصلے کی خبر تھی اس کا موقف لینا کہاں بنتا ہے۔؟ انہوں نے میرے گھر پرپولیس ریڈ کی دھمکی دی۔
لیکن دوسرے دن میرا پیارا دوست اور اسٹار میں کام کرنے والے ساتھی رپورٹر، رشید چنہ کو راستے سے اٹھوالیا گیا۔ سخت احتجاج ہوا، ڈان کی انتظامیہ کے دبائو پر رات دیر سے ان کو رہا کرنا پڑا۔
ارباب غلام رحیم نے جو سندھ کے ساتھ کیا، جو کارکردگی رہی، اس کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ اب وہ تھر میں شاہ محمود قریشی کے ساتھ گھوم رہے ہیں۔ جی ڈی اے کے اہم رہنما ہیں، اگر ہم ووٹ دینے کیلئے حساب رکھنا چاہتے ہیں تو یہ ایک زبردست بات ہے، ارباب غلام رحیم سے بھی حساب ہونا چاہیئے۔ آخری فیصلہ تو ووٹر کا ہی ہونا ہے۔
لیکن ایس ڈی اے سے لیکر پیرپاگاڑہ صاحب کی کہی ہوئی کالے کوے کی بات تک کا قصہ ابھی نہیں کر رہا۔ مضمون طویل ہوجائیگا۔ اور دوسری قسط میں،،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں