پاکستان پرائیویٹ لمٹیڈ کے گدھے

0
125

تحریر : سید علی رضا

آج اکیسوی صدی کے جمہوری کم آمریت ذدہ پاکستان میں بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر شہری ریاست کو اربوں روپے کے ٹیکس کی ادائگی کے باوجود کروڑوں روپے کا مزید اضافی بوجھ اٹھا رہے ہیں جس کو دیکھ کر پاکستان میں موجود گدھوں میں تشویس کی لہر دوڑ گئی وہ سمجھتے ہیں کہ غیر ضروری بوجھ اٹھانے کی شہرت صرف ہماری ہے جو اب خطرے میں دیکھائی دے رہی ہے انکا شکوہ ہے کہ جو قوم برابر والے گھر میں پکنے والی ہنڈیاں سے لیکر سیاسی و “عام” شخصیت کی شادی کے نجی معاملے تک پر تبصرے ، تجزیہ بحث و مباحثہ میں اپنا کوئی سانی نہیں رکھتے وہ اپنے اوپر بدترین اضافی معاشی و سماجی بوجھ کے ڈلنے پر اٹھ کھڑے ہونے کے بجائے ہماری شناخت چورا رہے ہیں ٬ ہماری شہرت کو اپنی بنا رہے ٬ جو کام ہمارے ساتھ منصوب ہوتے ہیں وہ خود کر رہے ہیں جس سے ہمارے قبیلہ کو شدید تحفظات پیدا ہونا شروع ہوگئے ہیں ان خیالات کا اظہار گدھوں کے لیڈر ڈھینچوں عرف ڈھینچی نے اپنی پریس کانفرنس کے ذریعے کیا

گدھوں کے مطابق ان پر یہ پہلا حملہ نہیں ہے اس سے قبل بھی انسانوں کے انقلابی شاعر حبیب جالب نے پاکستانیوں کو گدھوں سے تشبیہ دے کر
دس کروڑ یہ گدھے جن کا نام ہے عوام
والی نظم پڑھ پڑھ کر سنائی
مگر عجیب اتفاق ہے صرف تعداد میں تبدیلی کے کوئی تبدیلی نہیں آسکی جس سے ہماری پوری برادری اس وقت بھی سراپا احتجاج ہوئی تھی اور آج بھی ہے

ظلم ادھر ہی ختم ہو جاتا تو ضبط کا دامن تھام لیتے مگر انسانوں کی اس بستی پاکستان میں مہاجروں ٬ بلوچوں سندھیوں سمیت دیگر لسانی و مذہبی اکائیوں کے لاپتہ اور ماورائے عدالت قتل ہونے پر انھیں شناخت تو مل جاتی ہے جبکہ ہمیں بکرے اور گائے کے گوشت کے نام پر پہلے لاپتہ پھر قتل اور پھر فروخت کرنے کے بعد ہضم یہ کہہ کہ کر جاتے ہیں
” کیا لذیذ گوشت تھا بکرے کا ” آج کے دور میں اتنا برا حال ہیومن رائٹس اتھارٹی کا نہیں جتنا برا فوڈ اتھارٹی کا ہے!!!

“صحافی نے گدھوں کے لیڈر ڈھینچوں عرف ڈھینچی سے سوال کیا
آپ ان مسائل کو عدالت میں کیوں نہیں اٹھاتے ؟

جواب ملا
منصف آج کل عدالتوں میں انصاف فراہم کرنے کے بجائے
ہسپتالوں اور فلاحی اداروں کی زمینوں کی صفائی کو انصاف سمجھ بیٹھیں ان سے کیا انصاف کا تقاضہ کریں ؟

پوری دنیا میں کام الٹے ہر شعبہ میں پاکستانی کریں اور نام استعمال ہمارا ہو ؟؟؟
۔۔۔۔نامنظور نامنظور ۔۔۔۔

دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ان سے عید کا چاند دیکھنے کے لئے اچھی دوربین والی دوکان تک نہیں پہنچا جاتا کام الٹے یہ کریں اور نام (گدھے) استعمال ہمارا ہو

” وہی حال ہیں فقیروں کے
دن پھریں ہیں فقط وزیروں کے

ہر حسین ہے قوم کا مقروض
اور پاؤں نگیں ہیں مریم نوازوں کے ”
جالب سے معافی کے ساتھ

اربوں روپے کا سیکورٹی بجٹ دیں اور اس پر بم دھماکوں میں لپٹی لاشیں ، ٹارگٹ کلنگ پر روتی انکھیں اور قیمتی مال سے محرومی کا غم سہنے کے باوجود اپنے گھر کی چوکیداری تک بھی خود کریں اور غفور بھائی سے سوال تک نہ کریں تو میں تو کہونگا نہ کہ کام ایسے الٹے خود کریں اور نام استعمال ہمارا ہو ۔۔۔

صحت سہولیات کی مد میں اربوں روپے کے ٹیکس سرکار کو دیں اور قطاریں نجی ہسپتالوں میں لگا لیں کام الٹے خود کریں اور نام استعمال ہمارا ہو ۔۔۔

کھنڈرات گورنمنٹ پرائمری اسکول اور بھوت بنگلہ انگلش ہائر سیکنڈری اسکول بنانے والے محکمہ تعلیم کو کروڑوں روپے کا ٹیکس دیں اور احتجاج نجی تعلیمی اداروں پر ہی صرف کریں
کام الٹے یہ کریں اور نام استعمال ہمارا ہو

70 سالوں میں آمریت کی باسی روٹی اور جمہوریت کی کڑوی چٹنی کھا کھا کر ہضمیں خراب خود کریں اور نام استعمال ہمارا ہو

ہر پارٹی کا ووٹر و کارکن آپس میں لڑیں اورامیدوار سب سے بزنس ڈیل کریں تو میں کہونگا نہ کہ کام ایسے خود کریں اور نام استعمال ہمارا ہو ؟؟؟

صفائی نصف ایمان ہے کتابوں اور دیواروں پر چھاپ کر شہر شہر کو کچرا خود بنائیں اور نام استعمال ہمارا ہو ؟؟؟

میں کیا کیا کہوں اور آپ کہاں تک سنیں گیں بس میں یہ کہتا ہوں

یا تو یہ پاکستانی ہمارے قبیلہ میں شامل ہونے کا باضابطہ اعلان کریں ورنہ ہمارے ناموں سے منصوب کاموں سے بے دخلی کا مظاہرہ کریں

پریس کانفرنس ختم شدہ ۔۔۔

دور کھڑے پاکستانی نے اکڑتے ہوئے جواب دیا ہم یہ نہیں کرسکتے آخر ہم تو اشرف المخلوقات ہیں !!!

حصہ

رائے دیجئے

Please enter your comment!
Please enter your name here